رواں سال شیڈول میگا ایونٹ کیلیے پاک بھارت سمیت بڑے میچوں کی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق ٹکٹیں فروخت کرنے والی ایک ویب سائٹ پر ورلڈکپ کے مختلف اہم میچز کے ٹکٹ انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہیں، انگلینڈ کے آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ میچز کے 115 پاؤنڈ والے چند ٹکٹ تو 12029 پاؤنڈ میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیوں کے درمیان اولڈ ٹریفورڈ میں 16 جون کو شیڈول میچ کا 150 پاؤنڈ والا ٹکٹ 3 ہزار 280 پاؤنڈ میں فروخت ہونے لگا۔ ورلڈکپ آرگنائزنگ کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹکٹ ایکسچینج کمپنی کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا، قانونی کارروائی کے لئے اپنے وکلاء سے مشاورت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ انگلینڈ میں شیڈول ورلڈکپ کا آغاز رواں سال 30 مئی کو ہوگا، قانونی رکاوٹوں کے باوجود چیمپئنز ٹرافی میں بھی ٹکٹ بلیک میں فروخت ہوئی تھیں

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملک کے 26 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا، تقریب حلف برداری میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے ارکان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور مسلح افواج کےسربراہان سمیت سپریم کورٹ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز نے بھی شرکت کی۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کا پس منظر؛ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش لٹریچر کا امتحان پاس کیا اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے 1978میں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ1979میں لاہور ہائیکورٹ اور 1985 میں سپریم کورٹ کے وکیل رجسٹرڈ ہوئے، انہوں نے آئینی، کریمینل، سول، سروس، ریونیو اور الیکشن قوانین سے متعلق ہزاروں مقدمات لڑے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ قانون اور آئین کی تشریح پر مشتمل 7 کتابوں کے مصنف بھی ہیں، وہ 21 مئی 1998 کو لاہور ہائی کورٹ اور 18 فروری 2010 کوسپریم کورٹ کے جج بنے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 55 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سارک ممالک کی قانونی تنظیم کے بانی رکن ہیں، 2015 سے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد کے انچارج جج اور سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بھی ہیں، وہ20دسمبر 2019 تک چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔

سابق کپتان مصباح الحق کے بیٹے فہام الحق 13 سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے کیمپ کا حصہ بننے میں کامیاب ہوگئے۔ پی سی بی نے 13 سال سے کم عمر کرکٹرز کے لیے 2 ہفتوں کا کوچنگ کیمپ شروع کرنے کا فیصلہ کیاہے، جس کے لیے 28 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ کیمپ کا آغاز 14 جنوری سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوگا، باسط علی کی سربراہی میں قومی جونیئر سلیکشن کمیٹی نے ان کھلاڑیوں کا چناؤ پی سی بی انڈر 13 انٹرریجنل ٹورنامنٹ کے بہترین پرفارمرز میں سےکیاہے۔ جن کھلاڑیوں کو کوچنگ کیمپ میں مدعوکیا گیا ہے ان میں اسپنرز کو حافظ ساجد اکبراور محتشم رشید ٹریننگ دیں گے، فیلڈنگ ڈرلز کی پریکٹس بلال احمد اور عبدالمجید کو سونپی گئی ہے، فاسٹ بولرز کو ساجد شاہ ٹپس دیں گے۔ مدثر نذر اور علی ضیا بلے بازوں کی خامیوں کو دور کرنے میں مدد دیں گے۔ مدعو کردہ کرکٹرز میں شاہ زیب خان ایبٹ آباد، اسد عبداللہ بہاولپور، شاہد علی، طلحہ شاکر، مزمل علی ڈیرہ مراد جمالی، شاہود انجم، قمر عباس، محمد اریب فیصل آباد، اویس آفریدی، حسبن اللہ فاٹا، نور حبیب حیدر آباد، سعد بیگ کراچی، عبید شاہد، فہام الحق، شہباز جاوید، ذوہیب خان، محمد عثمان، محمد سلمان لاہور، شاہزیب علی لاڑکانہ، حسیب ناظم، عبدال ہادی ہارون ملتان، احمد حسین پشاور، محمداذان مہدی، محمد ارشد ارشاد احمد، محمد ابراہیم سلطان راولپنڈی، نعمان علی اور ذین علی سیالکوٹ شامل ہیں۔

جنوبی افریقا کے سابق کپتان اے بی ڈویلیئرز نے پی ایس ایل میچز کے لئے لاہور آنے کا اعلان کردیا۔ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے اسٹار کرکٹر اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہوں لہذا 9 اور 10 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول میچز میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کے لئے تیار ہوں جب کہ پوری کوشش ہوگی کہ لاہور قلندرز کی فتوحات کے لئے پیاس بجھانے میں اپنا کردار ادا کروں۔ اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کا جنون ہے، 2007 میں دورہ کی یادیں آج بھی تازہ ہیں، میرے لئے لاہور آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں کچھ کردار ادا کر سکوں۔ دوسری جانب چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور لاہور قلندرز کے کپتان محمد حفیظ نے ڈی ویلیئرز کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹار کرکٹر کی آمد سے نہ صرف شائقین میں بے پناہ جوش و خروش دیکھنے میں آئے گا بلکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے راستے کھولنے میں بھی مدد ملے گی۔

جنوبی افریقا نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر کلین سوئپ کردیا۔

جوہانسبرگ ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو جیت کے لیے 381 رنز کا ہدف دیا ہے جس کے جواب میں قومی ٹیم 273 رنز ہی بناسکی اور یوں انہیں 107 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی ٹیم نے چوتھے روز 3 وکٹ پر 153 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا تو 9 رنز کے اضافے کے بعد ہی بابراعظم 21 رنز بنانے کے بعد اولیئر کا شکار بن گئی، اگلی ہی گیند پر کپتان سرفراز احمد بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس لوٹ گئے جب کہ اسد شفیق کی ہمت بھی 65 رنز پر جواب دے گئی۔

فہیم اشرف بھی 15 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، حسن علی نے 14 گیندوں پر 22 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور شاداب خان 47 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ پروٹیز کی جانب سے اولیوائر اور رباڈا نے 3،3 جب کہ ڈیل اسٹین نے 2 اور فلینڈر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

دوسری اننگز میں میزبان ٹیم 303 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور پہلی اننگز میں 77 رنز کی برتری کی بدولت پاکستان کے لیے 381 رنز کا بڑا ہدف کھڑا کردیا، ڈی کوک 129 اور ہاشم آملہ 71 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے  فہیم اشرف اور محمد عباس نے 3،3 جب کہ محمد عامر 2 اور حسن علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ناکام رہی تھی، میزبان ٹیم کی جانب سے 4 کیچ ڈراپ اور ایک رن آؤٹ کا موقع ضائع کرنے کے باوجود قومی ٹیم پہلی اننگز میں 185 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ قومی ٹیم کی جانب سے سرفراز احمد 50، بابر اعظم 49 اور امام الحق 43 کے علاوہ کوئی بھی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا، پروٹیز کی جانب سے اولیوائر نے 5، فلینڈر نے 3 اور رباڈا نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ جنوبی افریقا نے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست دیکر سیریز اپنے نام کرلی 

جنوبی افریقا نے اپنی پہلی اننگز میں ایڈن مارکرم 90 ، ہاشم آملہ 41، بروین 49 اور زوبایر حمزہ کے 41 رنز کی بدولت 262 رنز بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ قومی ٹیم کی جانب سے فہیم اشرف نے 3، حسن علی، محمد عباس اور محمد عامر نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں تھیں۔

واضح رہے کہ ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یوں جنوبی افریقا کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

بھارتی فوج کے سابق جنرل مہندرپوری نے 1999 کی کارگل جنگ میں ناکامی کا اعتراف کرلیا۔ بھوپال فیسٹیول میں ایک سیشن کے دوران بات کرتے ہوئے بھارتی فوج کے سابق لیفٹینٹ جنرل مہندر پوری نے کارگل جنگ میں ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کارگل جنگ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ ملٹری انٹیلی جنس کی بھی ناکامی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1999 میں پاکستانی فوج کی کارگل میں پیش قدمی کا مقصد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانا تھا اور سری نگر سے لداخ جانے والی سڑک بلاک کرنا تھا تاکہ سیاچن کا زمینی رابطہ منقطع کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے کارگل جنگ میں بھارت کے آٹھویں ماونٹن ڈویژن کی کمان کی تھی اور تقریباِ 20 سال بعد اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔