: اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی 64 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ سعادت حسن منٹو 11مئی 1912ء کو غلام حسن منٹو امرتسری کے ہاں موضع سمبرالہ ضلع لدھیانہ بھارت میں پیداہوئے۔ انھوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا اور پاکستان بننے کے بعد یہاں منتقلی پر بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ سعادت حسن منٹو نے قیام پاکستان کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور بو سمیت درجنوں شاہکار افسانے تخلیق کیے۔ سعادت حسن منٹو 18جنوری 1955ء کو 43 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے مگر وہ آج بھی اپنی تحریروں سے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

لیگ اسپنر یاسر شاہ نے بھی بنگلا دیش پریمیئر لیگ کے لئے کمر کس لی۔ قومی لیگ اسپنر نے سلہٹ میں اپنی ٹیم کھلنا ٹائٹنز کو جوائن کرنے کے بعد باقاعدہ پریکٹس کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ یاسر شاہ جنوبی افریقہ کے خلاف قومی ایک روزہ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں تاہم اسپنر نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں گرین کیپس کی نمائندگی کی تھی، پاکستان کو ان ٹیسٹوں میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کھلنا ٹائٹنز ٹیم منیجمنٹ کا کہنا ہے کہ یاسر شاہ کی شمولیت سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، یاد رہے کہ اس سے قبل شعیب ملک، محمد حفیظ ،شاہد آفریدی، جنید خان، محمد سمیع ،محمد عرفان، عامر یامین، وہاب ریاض سہیل تنویر بھی لیگ کے دوران مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ملکی ہاکی کیلیے 2018 بھی مایوس کن رہا اس برس بھی قومی کھیل کا حال نہیں بدل پایا۔ 1995 سے قومی کھیل ہاکی کے شروع ہونے والے تنزلی کے سفر میں ایک اورسال کا اضافہ ہوگیا،سال 2018 بھی پاکستان ہاکی کو قدموں پر کھڑا کرنے میں ناکام رہا۔ پاکستان نے 6 ایونٹس میں شرکت کی، ٹیم نے 33 میچز کھیلے، 13 جیتے، 8 برابر رہے اور 12 میں ناکامی ہوئی۔پاکستان نے 101گول کیے،63 خلاف ہوئے۔سال کا آغاز عمان میں تین ملکی سیریز سے ہوا، 5 میچز کھیلے، 2 جیتے ، 2 ڈرا ہوئے اورایک ہارکر دوسری پوزیشن پائی۔اپریل میں آسٹریلیا میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں ٹیم کا نمبرساتواں رہا۔ پاکستان نے 5 میچز کھیلے،ایک ہارا اور 4 برابر رہے۔ ہالینڈ کے شہر بریڈا میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے چھٹی پوزیشن پر اختتام کیا، گرین شرٹس نے وہاں 6 میچز کھیلے، ایک جیتا اور 5 میں ناکامی کا سامنا رہا، جکارتہ ایشین گیمزکے میڈل ٹیبل پر پاکستان کا نمبر چوتھا رہا۔7 میچز میں سے قومی ٹیم نے 5 میں فتح پائی، 2 میچز میں شکست کے بعد چوتھی پوزیشن ملی۔قومی ٹیم مسقط میں کھیلی گئی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے ساتھ مشترکہ طورپر گولڈ میڈل کی حقدار قرار پائی۔ٹیم نے6 میں سے 4 میچ جیتے، ایک ڈرا اور ایک میچ میں ناکامی مقدر رہی، سال کے آخری ایونٹ ورلڈکپ میں پاکستان کی شرمناک پرفارمنس نے رسوائیوں کی داستان کو مزید طویل کردیا۔ ٹیم 4 میچز میں صرف ایک میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی اور16 ٹیموں میں سے پاکستان کا نمبر 12واں رہا۔قومی ٹیم میدان میں دل جیتنے میں ناکام رہی، تو میدان سے باہرکھلاڑی سال بھر مالی مسائل اور ڈیلی الاونسز نہ ملنے کا رونا روتے اور صداے احتجاج بلند کرتے رہے۔ فیڈریشن کے عہدیدارسب اچھا ہونے کے دعوے کرتے رہے،دوسری جانب عہدوں سے فارغ اولمپئنز ہمیشہ کی طرح اپنے مفادات کے لیے تنقید کے تیر چلاکر کھیل اور ملک کو بدنام کرتے دکھائی دیے۔

سپر لیگ ہمارے لیے بھی ورلڈکپ سے کم نہیں مگر ہمارا بورڈ ابھی تک خاموش بیٹھا ہے آپ خود بتائیں کیا ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ کے آغاز میں اب ایک ماہ ہی باقی رہ گیا،کہیں کوئی ایسی تشہیری مہم یا کچھ اور دیکھا جس سے ظاہر ہوکہ ایونٹ شروع ہونے والا ہے،آپ آئی سی سی کی مثال لیں ورلڈکپ میں ایک برس سے بھی زیادہ وقت باقی تھا مگر منظم انداز میں پبلسٹی شروع ہوئی جس سے شائقین ایونٹ کے ساتھ منسلک ہوئے، سپرلیگ ہمارے لیے بھی ورلڈکپ سے کم نہیں مگر ہمارا بورڈ ابھی تک خاموش بیٹھا ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ بیشتر فرنچائز بھی زیادہ سرگرم نظر نہیں آ رہیں، انھیں اسپانسرز کی تلاش میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ بیشتر نے اب تک بڑے معاہدے نہیں کیے، پی سی بی کے انداز بھی نرالے ہیں،نیشنل اسٹیڈیم میں فائنل سمیت 5 میچز ہونے ہیں مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایونٹ سے قبل وہ مکمل تیار ہو سکے گا، اب بھی بہت زیادہ کام باقی ہے، اسی طرح پی ایس ایل سے چند روز قبل ہی ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون رشید نے کراچی میں ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ کی اجازت دے دی جس کے عوض بورڈ کو 15 لاکھ روپے ملے، سرکاری ٹی وی پاک جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز نہیں دکھا رہا مگر لوکل میچز ٹیلی کاسٹ ہو رہے ہیں، بعض فرنچائزز نے ایونٹ کے انعقاد پر دبے لفظوں میں احتجاج کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بورڈ کو این او سی دینے کی کیا ضرورت تھی، ان کے بعض اسپانسرز نے مذکورہ لیگ میں ہی اپنے بجٹ کا بڑا حصہ خرچ کر لیا، ویسے ہم تو پی ایس ایل سے ایک ماہ قبل چھائی ہوئی خاموشی کی بات کر رہے ہیں بورڈ والے تو ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد بھی زیادہ سرگرم دکھائی نہیں دیتے، آپ دیکھ لیجیے گا افتتاحی تقریب اور میچز کے بعد یو اے ای میں بیشتر وقت اسٹیڈیم خالی ہی رہے گا،آپ کو شائقین کو ایونٹ کی جانب متوجہ کرنے کیلیے نت نئے آئیڈیاز پر کام کرنا ہوتا ہے تاکہ ہائپ بن سکے۔ عوام کی دلچسپی دیکھ کر اسپانسرز بھی راغب ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا، پی ایس ایل ویسے ہی بُری طرح مسائل میں گھری ہوئی ہے، سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے انھیں حل کرنے پر توجہ نہیں دی جبکہ احسان مانی کی ترجیحات میں یہ لیگ نظر نہیں آتی، فرنچائزز نے فیس دینے میں ہی بورڈ کو خوب ٹف ٹائم دیا، گزشتہ دنوں میں نے مالی حسابات دیکھے تو انکشاف ہوا کہ ابتدائی دونوں سیزنز میں سب کو کروڑوں کا خسارہ ہوا، نجانے نجم سیٹھی کیسے فائدے فائدے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے تھے، اگر ایسا ہی رہا تو آہستہ آہستہ سب کا حال سابقہ ملتان سلطانز جیسا ہونے لگے گا کیونکہ قارون کا خزانہ بھی ایک دن ختم ہو جاتا ہے، مجھے اگر کبھی ملاقات کا موقع ملا تو لاہور قلندرزکے حکام سے یہ ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ وہ اتنے بھاری خسارے کے باوجود ہر سال پلیئرز ڈیولپمنٹ پر کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ دیگر فرنچائزز کیوں سال بھر خاموش رہتی ہیں،اگر سب ہی کچھ نہ کچھ کرتے رہیں تو ان کو ہی اسپانسرز کی تلاش میں مدد ملے گی لیکن مجھے سب ایک پیج پر نہیں لگتے، پی ایس ایل کے فنانشل ماڈل میں بھی کئی بڑی خامیاں ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے 10کروڑ کی ٹیم خریدی اور کسی اور نے 5 کی مگر منافع سب کو یکساں ہی ملے گا، اس پر بھاری قیمت پر فرنچائز لینے والوں کو اعتراض ہے کہ انھوں نے زیادہ سرمایہ لگایا تو حصہ بھی زیادہ ملنا چاہیے، اسی طرح10 سال بعد ایک بار پھر ٹیموں کی ازسرنو فروخت ہو گی البتہ پہلی آفر کا انتخاب موجودہ فرنچائزز کو ہی ملے گا،شاید بہت سے مالکان کو یہ بھی لگتا ہوگاکہ کہیں اس وقت ٹیم ان کے ہاتھوں سے نکل نہ جائے لہذا کرائے کے گھر پر نئے ٹائلز اور رنگ و روغن کرانے کاکیا فائدہ، ٹیکس کے مسائل بھی حل نہیں ہو رہے، پنجاب سے باہر کی ٹیموں کو بھی وہاں کا صوبائی ٹیکس دینا پڑتا ہے، حال ہی میں پی سی بی نے میڈیا رائٹس بھاری قیمت پر فروخت کرنے کی ’’خوشخبری‘‘ سنائی مگر ساتھ ہی پروڈکشن اخراجات بڑھنے کا بھی اعلان کر دیا، یہ رقم فرنچائزز سے ہی لی جاتی ہے لہذا ان کی خوشی کافور ہو گئی۔ یہ ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے لو والا معاملہ ثابت ہوا،ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ جب کوئی آگے نہیں آ رہا تھا تو یہی 5 مالکان (ملتان سلطانز شامل نہیں) ٹیمیں خریدنے کیلیے سامنے آئے، البتہ اب تین سال ہو چکے، ہر برس کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے مگر بورڈ مسائل حل کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھا رہا،اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو پی ایس ایل تباہ ہو جائے گی، چیئرمین پی سی بی فرنچائزز اونرز سے ملاقاتیں کرتے ہیں مسائل حل کرنے کا یقین بھی دلاتے ہیں مگر ہوتا کچھ نہیں ہے، ابھی تو ایونٹ میں کم وقت رہ گیا لہذا بنیادی معاملات دیکھیں اور پھر اس کے بعد ایک کمیٹی بنا کر تمام مسائل حل کریں،اس وقت سب سے زیادہ فائدے میں پی سی بی ہے جو بغیر بڑی سرمایہ کاری کے ایونٹ کرا دیتا ہے، منافع میں بھی حصہ مل جاتا ہے، ٹیموں کو بھی چاہیے کہ وہ جاگ جائیں، آپس میں لڑنے کے بجائے مل کر بورڈ سے بات کریں اور مسائل حل کرائیں، بدقسمتی سے ابھی کوئی ذاتی تشہیر میں گم توکوئی پی ایس ایل کے ذریعے اپنا سیاسی پروفائل بنا رہا ہے تو کسی کے کچھ اور مقاصد ہیں،صرف ایک فرنچائز ہی پورے سال کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہے۔ ایسا نہیں چلے گاسب کو فعال ہونا پڑے گا، جب تک آپ کی صفوں میں اتحاد نہیں ہوگا بورڈ سے کوئی مطالبہ نہیں منوا سکتے، احسان مانی کو بھی چاہیے کہ پی ایس ایل کی ٹیم میں تبدیلیاں کرتے ہوئے قابل افراد کو آگے لائیں، بدقسمتی سے پی سی بی میں سوائے چیئرمین کے اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی، نئے آفیشلز کا تقرر ضرور ہوا لیکن بعض پرانے نااہل افراد بدستور کرسیوں سے چمٹے ہوئے ہیں، ان کی موجودگی میں آپ کیسے بہتری کے دعوے کر سکتے ہیں، پی ایس ایل بڑی مشکل سے برانڈ بنی، اس سال ملک میں زیادہ میچز بھی ہو رہے ہیں،مگر بورڈ اسے اہمیت نہیں دے رہا، ہر چند روز بعد کوئی نہ کوئی مسئلہ سامنے آجاتا ہے، اس بار تو ایونٹ کا انعقاد ہوجائے گا لیکن اگر سنجیدگی سے اہم ایشوز کو نہ دیکھا تو شاید آگے لیگ کی بقا کو خطرات لاحق ہو جائیں۔

جنوبی افریقا میں حالیہ ٹیسٹ سیریز ہارنے والے سرفراز احمد قومی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان نہیں۔ اور ان کو عہدے سے الگ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جو خود شکست کا طوق گلے میں لٹکا کر واپس آتے رہے ہیں۔ ان شکست خوردہ لیڈرز میں سلیم ملک، راشد لطیف، وقار یونس، انضمام اور مصباح الحق بھی ہیں۔ پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان آخری ٹیسٹ 11 جنوری سے جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ سنچورین اور کیپ ٹاون ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد سرفراز کو قیادت چھوڑنے ، کوچ مکی آرتھر کو ہٹانے کے مشوروں کے ساتھ ہر دانش ور ٹیم کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہے۔ ایسے وقت میں جب کھلاڑیوں کو سپورٹ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن ناقدین ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں مصروف ہیں۔ جنوبی افریقا میں سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس نے پہلی دفعہ شائقین کے دل نہیں توڑے۔ اور سرفراز احمد ناکام رہنے والے پہلے کپتان بھی نہیں۔ پاکستان نے اب تک جنوبی افریقا میں پانچ سیریز کھیلی ہیں ، جس میں سلیم ملک، راشد لطیف، وقاریونس، انضمام الحق اور مصباح الحق کو شکست فاش ہوئیں۔ پاکستان نے جنوبی افریقا میں صرف 2 ٹیسٹ میچز ہی جیتے ہیں جس میں سعید انور، اظہر محمود، انضمام الحق، مشتاق احمد، محمد آصف، شعیب اختر اور دانش کنیریا کا نمایاں ہاتھ رہاہے۔ پاکستان کی ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے جس میں اب ایک نئی شرمندگی کا اضافہ ہواہے۔ آئیے اب تک کھیلی جانے والی سیریز کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔ اولین پاک جنوبی افریقا سیریز 95-1994 میں سلیم ملک کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار جنوبی افریقا کی سرزمین پر سیریز کھیلی، راشدلطیف ان کے نائب کپتان تھے۔ عامر سہیل، سعید انور،آصف مجتبٰی، اعجاز احمد، انضمام الحق، معین خان، وسیم اکرم، کبیر خان، عاقب جاوید ،عامر نذیر، باسط علی، منظور الہٰی، اکرم رضا اور شکیل احمد پر مشتمل ٹیم کو جوہانسبرگ میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میں 324 رنز سے شکست ہوئی۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 460 رنز بنائے جب کہ دوسری اننگز 259 رنز بناکر ڈیکلیئر کردی تھی۔ پاکستانی ٹیم 230 اور 165 رنز تک ہی محدود رہی۔ سلیم ملک پہلی اننگز میں 99 رنز بناکر نمایاں رہے، دوسری باری میں انضمام الحق نے 95 رنز بناکر مزاحمت کی۔ پروٹیز کے خلاف راشد لطیف کی کپتانی اب ذکر کرتے ہیں قومی ٹیم کے 98-1997 کے ٹور کا، جس میں قیادت کا تاج وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف کے سر سجا، عامر سہیل نے نائب کپتان کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ سعید انور، اعجاز احمد،انضمام الحق،محمدیوسف، معین خان،محمد وسیم، ثقلین مشتاق، اظہر محمود، علی نقوی، شعیب اختر، محمد اکرم، وقاریونس اور مشتاق احمد ٹیم کا حصہ تھے، جوہانسبرگ کا پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوا، ڈربن ٹیسٹ پاکستان نے 29 رنز سے جیتا، پہلی اننگز میں اظہر محمود نے 132 رنز اور شعیب اختر نے 5 وکٹ لے کر دھوم مچائی تو دوسری اننگز میں سعید انور نے 118 اور مشتاق احمد کے 6 وکٹ یادگار پرفارمنس کے ساتھ مین آف دی میچ رہے۔ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو 259 رنز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، پاکستانی بیٹنگ لائن پہلی باری میں 106 اور دوسری میں 134 رنز بناسکی۔ یوں تین میچز کی یہ سیریز ایک ایک سے برابر رہی۔ جنوبی افریقا میں بورے والہ ایکسپریس 2002-03 کی سیریز وقار یونس المعروف بورے والہ ایکسپریس کی قیادت میں کھیلی، اس وقت انضمام الحق ان کے نائب تھے۔ اسکواڈ میں حسن رضا، محمدیوسف، مصباح الحق، محمدسمیع، فیصل اقبال،توفیق عمر، شعیب اختر، کامران اکمل، سلیم الہی، ثقلین مشتاق، وسیم اکرم، محمد زاہد، شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کو لیا گیا، ڈربن ٹیسٹ میزبان ٹیم نے 10 وکٹ سے اپنےنام کیا۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 368 رنز بورڈ پر سجائے۔ جواب میں پاکستانی بلے باز 161 پر پویلین لوٹ گئے۔ فالو آن کے بعد قومی ٹیم 250 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی، جنوبی افریقا نے 45 رنز کا ہدف بغیر کسی نقصان کے پورا کیا۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ قومی ٹیم ایک اننگز اور 42 رنز سے ہاری، جنوبی افریقا نے 7 وکٹ پر 627 رنز بناکر اننگز ختم کی۔ ہرشل گبز نے 228 اور اسمتھ نے 151 اسکورکیا۔ ثقلین مشتاق نے 3 وکٹ کے لیے 237 رنز دیئے۔ وقاریونس نے 121، محمد سمیع نے 124 جب کہ محمد زاہد نے 108 رنز دیئے۔ جواب میں قومی ٹیم 252 اور 226 رمز پر ڈھیر ہوئی۔ توفیق عمر نے 135 رنز کی اننگز کھیلی۔ یوں سیریز کے دونوں ٹیسٹ جنوبی افریقا کےنام رہے۔ موجودہ چیف سلیکٹر بحیثیت کپتان 07-2006 میں پاکستانی ٹیم ایک بار پھر جنوبی افریقا کی مہمان بنی۔ کپتان موجودہ چیف سلیکٹر انضمام الحق تھے، کھلاڑیوں میں محمد حفیظ، عمران فرحت، یاسر حمید،یونس خان، فیصل اقبال، کامران اکمل، شاہد نذیر، رانا نوید الحسن، دانش کنیریا اور محمد آصف نے سنچورین ٹیسٹ کھیلا جس میں جنوبی افریقا 7 وکٹ سے سرخرو رہا۔ پاکستان نے 313 اور 302 رنز اسکور کئے۔ جنوبی افریقا نے 417 اور 3 وکٹ پر 199 رنز بنائے۔ اس ٹیسٹ میں یونس خان اور عمران فرحت کے 68،68 اور یاسر حمید کے 65 رنز کے ساتھ محمد آصف کے پانچ وکٹ نمایاں پرفارمنس تھی۔ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستان نے 5 وکٹ سے کامیابی پائی۔ شعیب اختر کے 4، دانش کنیریا کے 3 اور محمد آصف کے 2 وکٹ کی بدولت جنوبی افریقا کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 124 رنزہی بنا پائی۔ انضمام الحق کے ناقابل شکست 92 رنز کے ذریعے پاکستانی ٹیم 265 رنز بنانے میں سرخرو ہوئی۔ دوسری باری میں مہمان ٹیم نے 331 رنز کا مجموعہ بنایا۔ محمد آصف 5 وکٹ لے کر ہیرو بنے۔ دانش کنیریا نے 4 وکٹ لیے۔ پاکستان نے 191 رنز کا ہدف پانچ وکٹ گنوا کر پورا کیا، یونس خان نے 67 رنز کا حصہ ڈالا۔ کیپ ٹاؤن کے آخری ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے 5 وکٹ سے فتح پاکر سیریز 1-2 سے اپنے کھاتے میں درج کروائی۔ اس میچ میں پاکستان نے 157 اور 186 رنز بنائے۔ جنوبی افریقا نے 183 اور 5 وکٹ پر 161 رنز کے ساتھ برتری پائی۔ میچ میں پاکستان کی جانب سے محمد یوسف کے 83، محمد آصف اور دانش کنیریا کے پہلی اننگزمیں 3،3 وکٹ نمایاں تھے۔ دوسری باری میں بھی محمد آصف اور دانش کنیریا کے 2،2 وکٹ تھے۔ مسٹر ٹک ٹک کی قیادت 2013 کے دورے میں مصباح الحق کی قیادت میں محمد حفیظ، ناصر جمشید، اظہر علی، یونس خان، اسد شفیق، سرفراز احمد، عمر گل، سعید اجمل، جنید خان اور راحت کی موجودگی میں قومی ٹیم کو جوہانسبرگ ٹیسٹ میں 211 رنز سے شرمندگی ہوئی۔ جنوبی افریقا کے 253 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم صرف 49 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ اظہر علی 13 اور مصباح الحق 12 رنز بنا کر ڈبل فیگر تک رسائی پانے والے بلے باز تھے۔ دوسری باری جنوبی افریقا نے 3 وکٹ پر 275 رنز پر ڈکلیئر کی۔ پاکستانی بلےباز 480 رنز کے تعاقب میں 268 بنا پائے۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میزبان ٹیم نے 4 وکٹ سے جیتا۔ اس میچ کی میں تنویر احمد اور محمد عرفان کو بولنگ اسکواڈ کا حصہ بنایا۔ قومی ٹیم نے 338 اور 169 اسکور کیا۔ مصباح اور اسد شفیق پہلی باری میں سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 326 اور دوسری میں 6 وکٹ پر 182 رنز کے ساتھ کامیابی پائی۔ سعید اجمل پہلی اننگز میں 6 اور دوسری میں 4 وکٹ لے کر نمایاں رہے۔ سنچورین ٹیسٹ میزبان ٹیم نے ایک اننگز اور 18 رنز سے اپنے نام کیا۔ پاکستان نے احسان عادل کو کھلایا۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگزمیں 409 رنز بنائے۔ راحت علی نے 127 رنز دے کر 6 وکٹ لیے۔ قومی بلے باز 156 اور 235 رنز ہی بناسکے۔

پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے پاکستان سپر لیگ میں تمام معروف غیرُملکی کرکٹرز کے پاکستان آکر کھیلنے کی نوید سنادی۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے قذافی اسٹیڈیم میں یو کے اینڈ پاکستان جرنلسٹ میچ کے موقع پر صحافیوں سے تعارف کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا سے بات چیت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے شیڈول کو حتمی شکل دے دیں گے، پی ایس ایل میں تمام معروف کرکٹرز نے پاکستان آکر کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھلنے میں مدد ملے گی۔ احسان مانی کا کہنا تھا کہ ساؤتھ افریقا اور انگلینڈ بورڈز کے ساتھ مختلف ٹیموں کی سیریز پر بات چیت جاری ہے، قذافی اسٹیڈیم کے ڈریسنگ رومز کو بھی دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس کی تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تمام فیڈریشنز میں پروفیشنلز لانے کی سفارش کر رہے ہیں، صرف ان فیڈریشنز کو گرانٹ دینے کی سفارش کر رہے ہیں جن کے پاس انفراسٹرکچر کا پلان ہو گا۔ چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا حکومت سے تعلق نہیں، پی او اے آئی او سی کے ماتحت ہے اس کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے، ہاکی والے گرانٹ مانگتے ہیں لیکن پلان نہیں بتاتے کہ کرنا کیا ہے، گرانٹ دینا حکومت کا کام ہے تاہم ٹاسک فورس صرف تجاویز دے سکتی ہے۔

کیریئر داؤ پر لگانے والے اولیور نے اظہرعلی سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ پاکستان کیخلاف شارٹ گیندوں پر ملنے والی کامیابی پر پروٹیز پیسر خود بھی حیران ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز اظہرعلی کیلیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی، تینوں میچز میں سینئر بیٹسمین مجموعی طور پر 59 رنز بنا سکے، اولیور نے انھیں4 بار آؤٹ کیا، سنچورین ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں پاکستانی بیٹسمین نے انہی کو وکٹ کی قربانی پیش کی، کیپ ٹاؤن میں دوسری جبکہ جوہانسبرگ میں چوتھی اننگز میں اولیور نے مہمان بیٹسمین کو پویلین بھیجا۔ ایک انٹرویو میں پروٹیز پیسر نے کہاکہ افسوس اظہر علی کیلیے یہ ٹور اچھا نہیں رہا۔ میری بولنگ میں ایک خامی ہے کہ کبھی کبھار گیند بہت آگے کر دیتا ہوں، میں شارٹ بال کرنا پسند کرتا ہوں لیکن پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اتنی زیادہ کامیابی پر مجھے خود بھی حیرت ہوئی۔ یاد رہے کہ انجرڈ ورنون فلینڈر کے پہلے ٹیسٹ کیلیے دستیاب نہ ہونے پر اولیور کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا، انھوں نے عمدہ کارکردگی سے اپنی جگہ پکی کرلی اور24 وکٹوں کے ساتھ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی لے اڑے۔ساتھی بیٹسمین ڈین ایلجر نے کہاکہ میں نے ٹیسٹ سیریز سے قبل 4 روزہ ڈومیسٹک میچ میں اولیور کا سامنا کیا، پیسر کو کھیلنا اتنا آسان نہیں، میں جانتا تھا کہ پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ہم دونوں ٹیم کا حصہ ہوں گے لیکن اولیور سے اس بارے میں بات نہیں کی۔

ایشین جونیئر اسکواش ٹیم چیمپئن شپ میں پاکستان نے بھارت کو 1-2 سے شکست دے دی۔ تھائی لینڈ کے شہر پتایا میں جاری ایشین جونیئر اسکواش چمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے، چائینز تائپے، سری لنکا اور کوریا کے بعد گرین شرٹس بھارتی ٹیم کو بھی 1-2 سے زیر کرنے میں کامیاب رہی پہلے میچ میں پاکستان کے عباس زیب نے بھارت کے اٹکرش بہیٹی کو شکست دی، دوسرے میچ میں حارث قاسم نے بھی بھارتی ویرچھوٹرانی کو سخت مقابلے کے بعد ہرا کر فتح پاکستانی ٹیم کی جھولی میں ڈال دی تاہم تیسرے میچ میں پاکستانی پلیئر محمد فرحان ہاشمی بھارتی کھلاڑی توشر شہانی سے ہار گئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایونٹ میں پاکستان نے کوریا کے خلاف 0-3 سے کامیابی حاصل کی تھی،عباس زیب، فرحان ہاشمی اور حارث قاسم نے تینون اپنے میچز جیتنے میں کامیاب رہے۔

شعیب ملک نے جنوبی افریقا کے خلاف ون ڈے سیریز کو ورلڈ کپ کی تیاریوں کا آغاز قرار دے دیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے پہلے میچ سے قبل پورٹ الزبتھ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شعیب ملک نے کہا کہ سلیکٹرز پاکستان ٹیم کے کمبی نیشن میں زیادہ تبدیلیاں نہیں کررہے، دستیاب بہترین کرکٹرز کو ہی زیادہ سے زیادہ تجربہ دلانے کی کوشش کی جارہی ہے، ورلڈکپ سے قبل کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انہیں گیم پلان کا علم ہوگا۔ شعیب ملک نے کہا کہ جنوبی افریقا میں سیریز خود کو میگا ایونٹ کیلیے تیار کرنے کا ایک بڑا موقع ہے، مشکل کنڈیشنز میں مضبوط حریفوں کا سامنا کرنے سے ہی نوجوان کرکٹرز کو تجربہ اور اعتماد حاصل ہوگا، ہمیں اب ہر میچ ورلڈکپ کی تیاریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھیلنا ہوگا۔ آل راؤنڈر نے کہا کہ نئی سیریز میں نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے، پورٹ الزبتھ میں پریکٹس کا اچھا موقع ملا، کھلاڑی اچھی فارم میں پر جوش نظر آئے اور مثبت کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں، سینئرز کو چیلنج لینے کے ساتھ مشکل کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی کے لیے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی بھی کرنا ہوگی، پروٹیز کے خلاف سیریز میں بیٹ اور بال دونوں سے بہتر پرفارم کرنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں شعیب ملک نے کہا کہ اپنی کرکٹ سے بھرپور انداز میں لطف اندوز رہا ہوں، خود کو نہ صرف پرفارمنس دکھانے کی کوشش کرتا بلکہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کی سوچ کے ساتھ جونیئرز کی رہنمائی بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔