
دنیا کا امیر ترین جوڑا ایک دوسرے سے الگ ہورہا ہے۔ جی ہاں دنیا کے امیر ترین شخص اور ایمازون کے بانی جیف بیزوز اور ان کی اہلیہ میکنزی شادی کے 25 سال بعد ایک دوسرے سے الگ ہورہے ہیں۔ ایمازون کے بانی کے ٹوئٹر پر اکاﺅنٹ پر اس جوڑے نے مشترکہ بیان جاری کیا۔

THE TREND OF SERVICE


بھارتی ٹاک شو کافی ود کرن جب بھی اپنے نئے سیزن کے ساتھ سامنے آتا ہے، ہر بار کوئی نہ کوئی نیا تنازع کھڑا ہوجاتا ہے۔
ایسا ہی کچھ اس بار بھی ہوا جب کافی ود کرن سیزن 6 کی ایک قسط میں بھارتی کرکٹرز ہاردیک پانڈیا اور کے ایل راہول 6 جنوری 2019 کو سامنے آئی قسط میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوئے۔
اس شو کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر کھلاڑی ہاردیک پانڈیا نے خواتین سے متعلق کئی نامناسب جملے کہے، جس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر صارفین کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
جبکہ ابھرتے ہوئے کرکٹر کے ایل راہول بھی ان کے ایسے جملوں پر ان کا ساتھ دیتے اور ہنستے نظر آئے، جس کے بعد انہیں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اس پورے شو کے دوران ہاردیک پانڈیا خود کو ایسے پیش کرتے رہے جیسے خواتین ان پر فدا ہیں، جبکہ کرن جوہر بھی اپنے شو کی ریٹنگز بڑھانے کی خاطر دونوں کھلاڑیوں کو ایسی باتیں کرنے پر اکساتے رہے۔
سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد ہاردیک پانڈیا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے جملوں سے ناظرین کا دل دکھانے پر معافی مانگی۔
ہاردیک پاندیا کا کہنا تھا کہ ’میں ہر اس شخص سے معافی مانگتا ہوں، جسے میرے کافی ود کرن میں کہے جملوں سے تکلیف پہنچی، حقیقت یہ ہے کہ جیسا شو کافی ود کرن ہے میں اس حساب سے بات کرتا رہا، میرا ارادہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا نہیں تھا‘۔
جبکہ کے ایل راہول نے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
ہاردیک پانڈیا کی معذرت کے باوجود بورڈ آف کنڑول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے ہاردیک پانڈیا اور کے ایل راہول کو شوکاز نوٹس بھیج دیے۔
جبکہ ایسے طلاعات ہیں کہ ان دونوں کھلاڑیوں پر دو میچز کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے۔
بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیدار نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاردیک پانڈیا کی جانب سے مانگی جانے والی معافی اس معاملے کو دبا نہیں سکتی، اس سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خواتین کو عزت دینے جیسے بڑے معاملے کو کتنا ہلکا لے رہے ہیں، اس رویے کو قبول نہیں کیا جاسکتا، انہیں سمجھنا ہوگا کہ اس ملک میں ایک کرکٹر پر کتنی ذمہ داری ہے، بلکہ سب سے پہلے تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط‘۔
ویرات کوہلی کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیے خواتین سے متعلق ایسے نامناسب بیانات ناقابل قبول ہیں، ہم انہیں سپورٹ نہیں کرتے، یہ دونوں کھلاڑی جانتے ہیں کہ اس کا کتنا نقصان ہوگا اور انہیں اندازہ ہوگا کہ کیا چیزیں غلط ہوئیں‘۔
اس معاملے کے بعد کافی ود کرن شو کی اس متنازع قسط کو بھی ہٹادیا گیا۔



ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی امیر شیخ کا کہنا ہے کہ چینی قونصل خانے پر حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسز ونگ (را) ملوث تھی اور اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔
کراچی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ چینی قونصل خانے پر حملے کے 5 سہولت کاروں کو مختلف کارروائیوں کے دوران کراچی، حب، کوئٹہ اور خضدار سے گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو متاثر کر کے پاکستان اور چین کے تعلقات میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کے تحت کیا گیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ حملہ آور چاہتے تھے کہ چینی شہری کراچی کو غیر محفوظ شہر سمجھیں‘۔
امیر شیخ نے چینی قونصل خانے پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تربیت یافتہ دہشت گرد گزشتہ 4 ماہ سے قونصل خانے خاص طور پر اس کے ویزا سیکشن کی ریکی کررہے تھے
۔مزید پڑھیں : کراچی: چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش ناکام، 2 پولیس اہلکار شہید
امیر شیخ نے بتایا کہ ’ دہشت گرد قونصل خانے کے ویزا سیکشن میں بیٹھ کر دروازے کھلنے کے اوقات اور دیگر تفصیلات کا مشاہدہ کرتے تھے‘۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گردوں نے ٹرین کے ذریعے اسلحہ کوئٹہ سے کراچی پہنچایا جبکہ اسلحہ اور دیگر آلات کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک گھر میں چھپایا گیا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں نے جعلی شناختی کارڈ بھی استعمال کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) اور پاکستان ریلوے کو سیکیورٹی طریقہ کار بہتر بنانے کے لیے خط لکھ رہے ہیں تاکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) اور ریلوے کی سہولیات کا غلط استعمال نہیں کیا جاسکے۔
انہوں نے دہشت گردوں کے موبائل فون سے حاصل کی گئی تصاویر بھی شیئر کیں، انہوں نے بتایا کہ حملے کے ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو کا کزن اور ان کے بہنوئی بھی حملے میں ملوث تھے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اہم کمانڈراسلم عرف اچھو اور دیگر خطرناک دہشت گردوں کے افغانستان میں ایک حملے میں ہلاک ہونے کی اطلاعات پیں لیکن ان کی لاش یا کوئی ٹھوس ثبوت ملنے تک اس بات کا یقین نہیں کیا جاسکتا۔
امیر شیخ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کالعدم تنظیم بلوچستان ( بی ایل اے) کا تعلق بھارت سے ہے، بھارت ابھی بھی ہمارے خلاف متحرک ہے۔m
خیال رہے کہ 23 نومبر کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں قائم چینی قونصل خانے میں 3 یا 4 افراد نے کلفٹن کے علاقے میں واقعے چینی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن سیکیورٹی اہلکاروں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔
چینی قونصل خانے میں حملے کے دوران 2 پولیس اہلکار شہید، 2 نامعلوم افراد جاں بحق اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور مارے گئے تھے۔
واقعے کے اگلے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں قائم چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کے رکن عبدالرزاق بلوچ کے 2 بھائیوں کو صوبہ بلوچستان کے علاقے خاران سے گرفتار کرلیا تھا۔


