جنوبی افریقا میں حالیہ ٹیسٹ سیریز ہارنے والے سرفراز احمد قومی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان نہیں۔ اور ان کو عہدے سے الگ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جو خود شکست کا طوق گلے میں لٹکا کر واپس آتے رہے ہیں۔ ان شکست خوردہ لیڈرز میں سلیم ملک، راشد لطیف، وقار یونس، انضمام اور مصباح الحق بھی ہیں۔ پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان آخری ٹیسٹ 11 جنوری سے جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ سنچورین اور کیپ ٹاون ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد سرفراز کو قیادت چھوڑنے ، کوچ مکی آرتھر کو ہٹانے کے مشوروں کے ساتھ ہر دانش ور ٹیم کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہے۔ ایسے وقت میں جب کھلاڑیوں کو سپورٹ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن ناقدین ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں مصروف ہیں۔ جنوبی افریقا میں سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس نے پہلی دفعہ شائقین کے دل نہیں توڑے۔ اور سرفراز احمد ناکام رہنے والے پہلے کپتان بھی نہیں۔ پاکستان نے اب تک جنوبی افریقا میں پانچ سیریز کھیلی ہیں ، جس میں سلیم ملک، راشد لطیف، وقاریونس، انضمام الحق اور مصباح الحق کو شکست فاش ہوئیں۔ پاکستان نے جنوبی افریقا میں صرف 2 ٹیسٹ میچز ہی جیتے ہیں جس میں سعید انور، اظہر محمود، انضمام الحق، مشتاق احمد، محمد آصف، شعیب اختر اور دانش کنیریا کا نمایاں ہاتھ رہاہے۔ پاکستان کی ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے جس میں اب ایک نئی شرمندگی کا اضافہ ہواہے۔ آئیے اب تک کھیلی جانے والی سیریز کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔ اولین پاک جنوبی افریقا سیریز 95-1994 میں سلیم ملک کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار جنوبی افریقا کی سرزمین پر سیریز کھیلی، راشدلطیف ان کے نائب کپتان تھے۔ عامر سہیل، سعید انور،آصف مجتبٰی، اعجاز احمد، انضمام الحق، معین خان، وسیم اکرم، کبیر خان، عاقب جاوید ،عامر نذیر، باسط علی، منظور الہٰی، اکرم رضا اور شکیل احمد پر مشتمل ٹیم کو جوہانسبرگ میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میں 324 رنز سے شکست ہوئی۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 460 رنز بنائے جب کہ دوسری اننگز 259 رنز بناکر ڈیکلیئر کردی تھی۔ پاکستانی ٹیم 230 اور 165 رنز تک ہی محدود رہی۔ سلیم ملک پہلی اننگز میں 99 رنز بناکر نمایاں رہے، دوسری باری میں انضمام الحق نے 95 رنز بناکر مزاحمت کی۔ پروٹیز کے خلاف راشد لطیف کی کپتانی اب ذکر کرتے ہیں قومی ٹیم کے 98-1997 کے ٹور کا، جس میں قیادت کا تاج وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف کے سر سجا، عامر سہیل نے نائب کپتان کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ سعید انور، اعجاز احمد،انضمام الحق،محمدیوسف، معین خان،محمد وسیم، ثقلین مشتاق، اظہر محمود، علی نقوی، شعیب اختر، محمد اکرم، وقاریونس اور مشتاق احمد ٹیم کا حصہ تھے، جوہانسبرگ کا پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوا، ڈربن ٹیسٹ پاکستان نے 29 رنز سے جیتا، پہلی اننگز میں اظہر محمود نے 132 رنز اور شعیب اختر نے 5 وکٹ لے کر دھوم مچائی تو دوسری اننگز میں سعید انور نے 118 اور مشتاق احمد کے 6 وکٹ یادگار پرفارمنس کے ساتھ مین آف دی میچ رہے۔ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو 259 رنز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، پاکستانی بیٹنگ لائن پہلی باری میں 106 اور دوسری میں 134 رنز بناسکی۔ یوں تین میچز کی یہ سیریز ایک ایک سے برابر رہی۔ جنوبی افریقا میں بورے والہ ایکسپریس 2002-03 کی سیریز وقار یونس المعروف بورے والہ ایکسپریس کی قیادت میں کھیلی، اس وقت انضمام الحق ان کے نائب تھے۔ اسکواڈ میں حسن رضا، محمدیوسف، مصباح الحق، محمدسمیع، فیصل اقبال،توفیق عمر، شعیب اختر، کامران اکمل، سلیم الہی، ثقلین مشتاق، وسیم اکرم، محمد زاہد، شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کو لیا گیا، ڈربن ٹیسٹ میزبان ٹیم نے 10 وکٹ سے اپنےنام کیا۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 368 رنز بورڈ پر سجائے۔ جواب میں پاکستانی بلے باز 161 پر پویلین لوٹ گئے۔ فالو آن کے بعد قومی ٹیم 250 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی، جنوبی افریقا نے 45 رنز کا ہدف بغیر کسی نقصان کے پورا کیا۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ قومی ٹیم ایک اننگز اور 42 رنز سے ہاری، جنوبی افریقا نے 7 وکٹ پر 627 رنز بناکر اننگز ختم کی۔ ہرشل گبز نے 228 اور اسمتھ نے 151 اسکورکیا۔ ثقلین مشتاق نے 3 وکٹ کے لیے 237 رنز دیئے۔ وقاریونس نے 121، محمد سمیع نے 124 جب کہ محمد زاہد نے 108 رنز دیئے۔ جواب میں قومی ٹیم 252 اور 226 رمز پر ڈھیر ہوئی۔ توفیق عمر نے 135 رنز کی اننگز کھیلی۔ یوں سیریز کے دونوں ٹیسٹ جنوبی افریقا کےنام رہے۔ موجودہ چیف سلیکٹر بحیثیت کپتان 07-2006 میں پاکستانی ٹیم ایک بار پھر جنوبی افریقا کی مہمان بنی۔ کپتان موجودہ چیف سلیکٹر انضمام الحق تھے، کھلاڑیوں میں محمد حفیظ، عمران فرحت، یاسر حمید،یونس خان، فیصل اقبال، کامران اکمل، شاہد نذیر، رانا نوید الحسن، دانش کنیریا اور محمد آصف نے سنچورین ٹیسٹ کھیلا جس میں جنوبی افریقا 7 وکٹ سے سرخرو رہا۔ پاکستان نے 313 اور 302 رنز اسکور کئے۔ جنوبی افریقا نے 417 اور 3 وکٹ پر 199 رنز بنائے۔ اس ٹیسٹ میں یونس خان اور عمران فرحت کے 68،68 اور یاسر حمید کے 65 رنز کے ساتھ محمد آصف کے پانچ وکٹ نمایاں پرفارمنس تھی۔ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستان نے 5 وکٹ سے کامیابی پائی۔ شعیب اختر کے 4، دانش کنیریا کے 3 اور محمد آصف کے 2 وکٹ کی بدولت جنوبی افریقا کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 124 رنزہی بنا پائی۔ انضمام الحق کے ناقابل شکست 92 رنز کے ذریعے پاکستانی ٹیم 265 رنز بنانے میں سرخرو ہوئی۔ دوسری باری میں مہمان ٹیم نے 331 رنز کا مجموعہ بنایا۔ محمد آصف 5 وکٹ لے کر ہیرو بنے۔ دانش کنیریا نے 4 وکٹ لیے۔ پاکستان نے 191 رنز کا ہدف پانچ وکٹ گنوا کر پورا کیا، یونس خان نے 67 رنز کا حصہ ڈالا۔ کیپ ٹاؤن کے آخری ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے 5 وکٹ سے فتح پاکر سیریز 1-2 سے اپنے کھاتے میں درج کروائی۔ اس میچ میں پاکستان نے 157 اور 186 رنز بنائے۔ جنوبی افریقا نے 183 اور 5 وکٹ پر 161 رنز کے ساتھ برتری پائی۔ میچ میں پاکستان کی جانب سے محمد یوسف کے 83، محمد آصف اور دانش کنیریا کے پہلی اننگزمیں 3،3 وکٹ نمایاں تھے۔ دوسری باری میں بھی محمد آصف اور دانش کنیریا کے 2،2 وکٹ تھے۔ مسٹر ٹک ٹک کی قیادت 2013 کے دورے میں مصباح الحق کی قیادت میں محمد حفیظ، ناصر جمشید، اظہر علی، یونس خان، اسد شفیق، سرفراز احمد، عمر گل، سعید اجمل، جنید خان اور راحت کی موجودگی میں قومی ٹیم کو جوہانسبرگ ٹیسٹ میں 211 رنز سے شرمندگی ہوئی۔ جنوبی افریقا کے 253 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم صرف 49 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ اظہر علی 13 اور مصباح الحق 12 رنز بنا کر ڈبل فیگر تک رسائی پانے والے بلے باز تھے۔ دوسری باری جنوبی افریقا نے 3 وکٹ پر 275 رنز پر ڈکلیئر کی۔ پاکستانی بلےباز 480 رنز کے تعاقب میں 268 بنا پائے۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میزبان ٹیم نے 4 وکٹ سے جیتا۔ اس میچ کی میں تنویر احمد اور محمد عرفان کو بولنگ اسکواڈ کا حصہ بنایا۔ قومی ٹیم نے 338 اور 169 اسکور کیا۔ مصباح اور اسد شفیق پہلی باری میں سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 326 اور دوسری میں 6 وکٹ پر 182 رنز کے ساتھ کامیابی پائی۔ سعید اجمل پہلی اننگز میں 6 اور دوسری میں 4 وکٹ لے کر نمایاں رہے۔ سنچورین ٹیسٹ میزبان ٹیم نے ایک اننگز اور 18 رنز سے اپنے نام کیا۔ پاکستان نے احسان عادل کو کھلایا۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگزمیں 409 رنز بنائے۔ راحت علی نے 127 رنز دے کر 6 وکٹ لیے۔ قومی بلے باز 156 اور 235 رنز ہی بناسکے۔

پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے پاکستان سپر لیگ میں تمام معروف غیرُملکی کرکٹرز کے پاکستان آکر کھیلنے کی نوید سنادی۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے قذافی اسٹیڈیم میں یو کے اینڈ پاکستان جرنلسٹ میچ کے موقع پر صحافیوں سے تعارف کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا سے بات چیت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور پی ایس ایل کے آغاز سے پہلے شیڈول کو حتمی شکل دے دیں گے، پی ایس ایل میں تمام معروف کرکٹرز نے پاکستان آکر کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھلنے میں مدد ملے گی۔ احسان مانی کا کہنا تھا کہ ساؤتھ افریقا اور انگلینڈ بورڈز کے ساتھ مختلف ٹیموں کی سیریز پر بات چیت جاری ہے، قذافی اسٹیڈیم کے ڈریسنگ رومز کو بھی دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس کی تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تمام فیڈریشنز میں پروفیشنلز لانے کی سفارش کر رہے ہیں، صرف ان فیڈریشنز کو گرانٹ دینے کی سفارش کر رہے ہیں جن کے پاس انفراسٹرکچر کا پلان ہو گا۔ چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا حکومت سے تعلق نہیں، پی او اے آئی او سی کے ماتحت ہے اس کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے، ہاکی والے گرانٹ مانگتے ہیں لیکن پلان نہیں بتاتے کہ کرنا کیا ہے، گرانٹ دینا حکومت کا کام ہے تاہم ٹاسک فورس صرف تجاویز دے سکتی ہے۔

کیریئر داؤ پر لگانے والے اولیور نے اظہرعلی سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ پاکستان کیخلاف شارٹ گیندوں پر ملنے والی کامیابی پر پروٹیز پیسر خود بھی حیران ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز اظہرعلی کیلیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی، تینوں میچز میں سینئر بیٹسمین مجموعی طور پر 59 رنز بنا سکے، اولیور نے انھیں4 بار آؤٹ کیا، سنچورین ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں پاکستانی بیٹسمین نے انہی کو وکٹ کی قربانی پیش کی، کیپ ٹاؤن میں دوسری جبکہ جوہانسبرگ میں چوتھی اننگز میں اولیور نے مہمان بیٹسمین کو پویلین بھیجا۔ ایک انٹرویو میں پروٹیز پیسر نے کہاکہ افسوس اظہر علی کیلیے یہ ٹور اچھا نہیں رہا۔ میری بولنگ میں ایک خامی ہے کہ کبھی کبھار گیند بہت آگے کر دیتا ہوں، میں شارٹ بال کرنا پسند کرتا ہوں لیکن پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اتنی زیادہ کامیابی پر مجھے خود بھی حیرت ہوئی۔ یاد رہے کہ انجرڈ ورنون فلینڈر کے پہلے ٹیسٹ کیلیے دستیاب نہ ہونے پر اولیور کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا، انھوں نے عمدہ کارکردگی سے اپنی جگہ پکی کرلی اور24 وکٹوں کے ساتھ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی لے اڑے۔ساتھی بیٹسمین ڈین ایلجر نے کہاکہ میں نے ٹیسٹ سیریز سے قبل 4 روزہ ڈومیسٹک میچ میں اولیور کا سامنا کیا، پیسر کو کھیلنا اتنا آسان نہیں، میں جانتا تھا کہ پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ہم دونوں ٹیم کا حصہ ہوں گے لیکن اولیور سے اس بارے میں بات نہیں کی۔

ایشین جونیئر اسکواش ٹیم چیمپئن شپ میں پاکستان نے بھارت کو 1-2 سے شکست دے دی۔ تھائی لینڈ کے شہر پتایا میں جاری ایشین جونیئر اسکواش چمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے، چائینز تائپے، سری لنکا اور کوریا کے بعد گرین شرٹس بھارتی ٹیم کو بھی 1-2 سے زیر کرنے میں کامیاب رہی پہلے میچ میں پاکستان کے عباس زیب نے بھارت کے اٹکرش بہیٹی کو شکست دی، دوسرے میچ میں حارث قاسم نے بھی بھارتی ویرچھوٹرانی کو سخت مقابلے کے بعد ہرا کر فتح پاکستانی ٹیم کی جھولی میں ڈال دی تاہم تیسرے میچ میں پاکستانی پلیئر محمد فرحان ہاشمی بھارتی کھلاڑی توشر شہانی سے ہار گئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایونٹ میں پاکستان نے کوریا کے خلاف 0-3 سے کامیابی حاصل کی تھی،عباس زیب، فرحان ہاشمی اور حارث قاسم نے تینون اپنے میچز جیتنے میں کامیاب رہے۔

شعیب ملک نے جنوبی افریقا کے خلاف ون ڈے سیریز کو ورلڈ کپ کی تیاریوں کا آغاز قرار دے دیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے پہلے میچ سے قبل پورٹ الزبتھ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شعیب ملک نے کہا کہ سلیکٹرز پاکستان ٹیم کے کمبی نیشن میں زیادہ تبدیلیاں نہیں کررہے، دستیاب بہترین کرکٹرز کو ہی زیادہ سے زیادہ تجربہ دلانے کی کوشش کی جارہی ہے، ورلڈکپ سے قبل کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انہیں گیم پلان کا علم ہوگا۔ شعیب ملک نے کہا کہ جنوبی افریقا میں سیریز خود کو میگا ایونٹ کیلیے تیار کرنے کا ایک بڑا موقع ہے، مشکل کنڈیشنز میں مضبوط حریفوں کا سامنا کرنے سے ہی نوجوان کرکٹرز کو تجربہ اور اعتماد حاصل ہوگا، ہمیں اب ہر میچ ورلڈکپ کی تیاریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھیلنا ہوگا۔ آل راؤنڈر نے کہا کہ نئی سیریز میں نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے، پورٹ الزبتھ میں پریکٹس کا اچھا موقع ملا، کھلاڑی اچھی فارم میں پر جوش نظر آئے اور مثبت کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں، سینئرز کو چیلنج لینے کے ساتھ مشکل کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی کے لیے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی بھی کرنا ہوگی، پروٹیز کے خلاف سیریز میں بیٹ اور بال دونوں سے بہتر پرفارم کرنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں شعیب ملک نے کہا کہ اپنی کرکٹ سے بھرپور انداز میں لطف اندوز رہا ہوں، خود کو نہ صرف پرفارمنس دکھانے کی کوشش کرتا بلکہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کی سوچ کے ساتھ جونیئرز کی رہنمائی بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔

رواں سال شیڈول میگا ایونٹ کیلیے پاک بھارت سمیت بڑے میچوں کی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق ٹکٹیں فروخت کرنے والی ایک ویب سائٹ پر ورلڈکپ کے مختلف اہم میچز کے ٹکٹ انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہیں، انگلینڈ کے آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ میچز کے 115 پاؤنڈ والے چند ٹکٹ تو 12029 پاؤنڈ میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیوں کے درمیان اولڈ ٹریفورڈ میں 16 جون کو شیڈول میچ کا 150 پاؤنڈ والا ٹکٹ 3 ہزار 280 پاؤنڈ میں فروخت ہونے لگا۔ ورلڈکپ آرگنائزنگ کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹکٹ ایکسچینج کمپنی کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا، قانونی کارروائی کے لئے اپنے وکلاء سے مشاورت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ انگلینڈ میں شیڈول ورلڈکپ کا آغاز رواں سال 30 مئی کو ہوگا، قانونی رکاوٹوں کے باوجود چیمپئنز ٹرافی میں بھی ٹکٹ بلیک میں فروخت ہوئی تھیں

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملک کے 26 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا، تقریب حلف برداری میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے ارکان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور مسلح افواج کےسربراہان سمیت سپریم کورٹ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز نے بھی شرکت کی۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کا پس منظر؛ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش لٹریچر کا امتحان پاس کیا اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے 1978میں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ1979میں لاہور ہائیکورٹ اور 1985 میں سپریم کورٹ کے وکیل رجسٹرڈ ہوئے، انہوں نے آئینی، کریمینل، سول، سروس، ریونیو اور الیکشن قوانین سے متعلق ہزاروں مقدمات لڑے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ قانون اور آئین کی تشریح پر مشتمل 7 کتابوں کے مصنف بھی ہیں، وہ 21 مئی 1998 کو لاہور ہائی کورٹ اور 18 فروری 2010 کوسپریم کورٹ کے جج بنے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 55 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سارک ممالک کی قانونی تنظیم کے بانی رکن ہیں، 2015 سے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد کے انچارج جج اور سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بھی ہیں، وہ20دسمبر 2019 تک چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔

سابق کپتان مصباح الحق کے بیٹے فہام الحق 13 سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے کیمپ کا حصہ بننے میں کامیاب ہوگئے۔ پی سی بی نے 13 سال سے کم عمر کرکٹرز کے لیے 2 ہفتوں کا کوچنگ کیمپ شروع کرنے کا فیصلہ کیاہے، جس کے لیے 28 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ کیمپ کا آغاز 14 جنوری سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوگا، باسط علی کی سربراہی میں قومی جونیئر سلیکشن کمیٹی نے ان کھلاڑیوں کا چناؤ پی سی بی انڈر 13 انٹرریجنل ٹورنامنٹ کے بہترین پرفارمرز میں سےکیاہے۔ جن کھلاڑیوں کو کوچنگ کیمپ میں مدعوکیا گیا ہے ان میں اسپنرز کو حافظ ساجد اکبراور محتشم رشید ٹریننگ دیں گے، فیلڈنگ ڈرلز کی پریکٹس بلال احمد اور عبدالمجید کو سونپی گئی ہے، فاسٹ بولرز کو ساجد شاہ ٹپس دیں گے۔ مدثر نذر اور علی ضیا بلے بازوں کی خامیوں کو دور کرنے میں مدد دیں گے۔ مدعو کردہ کرکٹرز میں شاہ زیب خان ایبٹ آباد، اسد عبداللہ بہاولپور، شاہد علی، طلحہ شاکر، مزمل علی ڈیرہ مراد جمالی، شاہود انجم، قمر عباس، محمد اریب فیصل آباد، اویس آفریدی، حسبن اللہ فاٹا، نور حبیب حیدر آباد، سعد بیگ کراچی، عبید شاہد، فہام الحق، شہباز جاوید، ذوہیب خان، محمد عثمان، محمد سلمان لاہور، شاہزیب علی لاڑکانہ، حسیب ناظم، عبدال ہادی ہارون ملتان، احمد حسین پشاور، محمداذان مہدی، محمد ارشد ارشاد احمد، محمد ابراہیم سلطان راولپنڈی، نعمان علی اور ذین علی سیالکوٹ شامل ہیں۔

جنوبی افریقا کے سابق کپتان اے بی ڈویلیئرز نے پی ایس ایل میچز کے لئے لاہور آنے کا اعلان کردیا۔ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے اسٹار کرکٹر اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہوں لہذا 9 اور 10 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول میچز میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کے لئے تیار ہوں جب کہ پوری کوشش ہوگی کہ لاہور قلندرز کی فتوحات کے لئے پیاس بجھانے میں اپنا کردار ادا کروں۔ اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کا جنون ہے، 2007 میں دورہ کی یادیں آج بھی تازہ ہیں، میرے لئے لاہور آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں کچھ کردار ادا کر سکوں۔ دوسری جانب چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور لاہور قلندرز کے کپتان محمد حفیظ نے ڈی ویلیئرز کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹار کرکٹر کی آمد سے نہ صرف شائقین میں بے پناہ جوش و خروش دیکھنے میں آئے گا بلکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے راستے کھولنے میں بھی مدد ملے گی۔

جنوبی افریقا نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر کلین سوئپ کردیا۔

جوہانسبرگ ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو جیت کے لیے 381 رنز کا ہدف دیا ہے جس کے جواب میں قومی ٹیم 273 رنز ہی بناسکی اور یوں انہیں 107 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی ٹیم نے چوتھے روز 3 وکٹ پر 153 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا تو 9 رنز کے اضافے کے بعد ہی بابراعظم 21 رنز بنانے کے بعد اولیئر کا شکار بن گئی، اگلی ہی گیند پر کپتان سرفراز احمد بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس لوٹ گئے جب کہ اسد شفیق کی ہمت بھی 65 رنز پر جواب دے گئی۔

فہیم اشرف بھی 15 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، حسن علی نے 14 گیندوں پر 22 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور شاداب خان 47 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ پروٹیز کی جانب سے اولیوائر اور رباڈا نے 3،3 جب کہ ڈیل اسٹین نے 2 اور فلینڈر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

دوسری اننگز میں میزبان ٹیم 303 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور پہلی اننگز میں 77 رنز کی برتری کی بدولت پاکستان کے لیے 381 رنز کا بڑا ہدف کھڑا کردیا، ڈی کوک 129 اور ہاشم آملہ 71 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے  فہیم اشرف اور محمد عباس نے 3،3 جب کہ محمد عامر 2 اور حسن علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ناکام رہی تھی، میزبان ٹیم کی جانب سے 4 کیچ ڈراپ اور ایک رن آؤٹ کا موقع ضائع کرنے کے باوجود قومی ٹیم پہلی اننگز میں 185 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ قومی ٹیم کی جانب سے سرفراز احمد 50، بابر اعظم 49 اور امام الحق 43 کے علاوہ کوئی بھی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا، پروٹیز کی جانب سے اولیوائر نے 5، فلینڈر نے 3 اور رباڈا نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ جنوبی افریقا نے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست دیکر سیریز اپنے نام کرلی 

جنوبی افریقا نے اپنی پہلی اننگز میں ایڈن مارکرم 90 ، ہاشم آملہ 41، بروین 49 اور زوبایر حمزہ کے 41 رنز کی بدولت 262 رنز بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ قومی ٹیم کی جانب سے فہیم اشرف نے 3، حسن علی، محمد عباس اور محمد عامر نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں تھیں۔

واضح رہے کہ ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یوں جنوبی افریقا کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔