
سانحہ ساہیوال ۔۔۔۔آئی جی پنجاب کے احکامات کی کھلم کھلا خلا ف وزری

THE TREND OF SERVICE




سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ان کی جگہ لینے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جہاں دیگر اہم باتوں کی جانب اشارہ کیا وہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ از خود نوٹس کا استعمال صرف اس صورت میں کریں گے جب کوئی صورت نہیں ہوگی۔
جمعرات کو اسلام آباد میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس ثاقب نثار کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد ہوا۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وہ جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ گذشتہ 20 سال اور آٹھ ماہ سے ہیں اور آج وہ دونوں علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تمام اداروں کو ان کےدائرہ اختیار میں رکھنے کے لیے اداروں کے سربراہوں کے مابین ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ صدر پاکستان سے گذارش کریں گے کہ وہ اعلی سطحی اجلاس بلائیں اور خود اس کی سربراہی کریں۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کے انداز کو بہتر بتانے کے لیے ایک میثاق حکمرانی سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایں۔
انھوں نے کہا کہ وہ تجویز کرتے ہیں کہ میثاق حکمرانی کے لیے ہونے مذاکرات میں عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ، مسلح افواج اور خفیہ اداروں کی اعلی قیادت کو مدعو کیا جائے۔
جسٹس کھوسہ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بطور قوم اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ماضی میں ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ازخود نوٹس کا استعمال بہت کم کیا جانا چاہیے اور صرف قومی اہمیت کے حامل معاملات پر لیے جانے چاہیں جہاں کوئی اور مناسب اور موثر حل دستیاب نہ ہو یا دستیاب آئینی اور قانونی حل بے اثر یا بے کار ہوجائیں۔
انھوں نے ہائی کورٹس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عالیہ کو اپنے اختیارات حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے چاہیں۔






