جنوبی افریقا نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر کلین سوئپ کردیا۔

جوہانسبرگ ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو جیت کے لیے 381 رنز کا ہدف دیا ہے جس کے جواب میں قومی ٹیم 273 رنز ہی بناسکی اور یوں انہیں 107 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی ٹیم نے چوتھے روز 3 وکٹ پر 153 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا تو 9 رنز کے اضافے کے بعد ہی بابراعظم 21 رنز بنانے کے بعد اولیئر کا شکار بن گئی، اگلی ہی گیند پر کپتان سرفراز احمد بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس لوٹ گئے جب کہ اسد شفیق کی ہمت بھی 65 رنز پر جواب دے گئی۔

فہیم اشرف بھی 15 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، حسن علی نے 14 گیندوں پر 22 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور شاداب خان 47 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ پروٹیز کی جانب سے اولیوائر اور رباڈا نے 3،3 جب کہ ڈیل اسٹین نے 2 اور فلینڈر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

دوسری اننگز میں میزبان ٹیم 303 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور پہلی اننگز میں 77 رنز کی برتری کی بدولت پاکستان کے لیے 381 رنز کا بڑا ہدف کھڑا کردیا، ڈی کوک 129 اور ہاشم آملہ 71 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے  فہیم اشرف اور محمد عباس نے 3،3 جب کہ محمد عامر 2 اور حسن علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ناکام رہی تھی، میزبان ٹیم کی جانب سے 4 کیچ ڈراپ اور ایک رن آؤٹ کا موقع ضائع کرنے کے باوجود قومی ٹیم پہلی اننگز میں 185 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ قومی ٹیم کی جانب سے سرفراز احمد 50، بابر اعظم 49 اور امام الحق 43 کے علاوہ کوئی بھی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا، پروٹیز کی جانب سے اولیوائر نے 5، فلینڈر نے 3 اور رباڈا نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ جنوبی افریقا نے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست دیکر سیریز اپنے نام کرلی 

جنوبی افریقا نے اپنی پہلی اننگز میں ایڈن مارکرم 90 ، ہاشم آملہ 41، بروین 49 اور زوبایر حمزہ کے 41 رنز کی بدولت 262 رنز بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ قومی ٹیم کی جانب سے فہیم اشرف نے 3، حسن علی، محمد عباس اور محمد عامر نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں تھیں۔

واضح رہے کہ ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یوں جنوبی افریقا کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

بھارتی فوج کے سابق جنرل مہندرپوری نے 1999 کی کارگل جنگ میں ناکامی کا اعتراف کرلیا۔ بھوپال فیسٹیول میں ایک سیشن کے دوران بات کرتے ہوئے بھارتی فوج کے سابق لیفٹینٹ جنرل مہندر پوری نے کارگل جنگ میں ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کارگل جنگ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ ملٹری انٹیلی جنس کی بھی ناکامی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1999 میں پاکستانی فوج کی کارگل میں پیش قدمی کا مقصد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانا تھا اور سری نگر سے لداخ جانے والی سڑک بلاک کرنا تھا تاکہ سیاچن کا زمینی رابطہ منقطع کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے کارگل جنگ میں بھارت کے آٹھویں ماونٹن ڈویژن کی کمان کی تھی اور تقریباِ 20 سال بعد اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

انٹرنیشنل کبڈی سیریز ۔۔۔۔پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو ہرا کر فائنل جیت کر سیریز اپنے نام کر لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

WINNER