پاکستان اور آسٹریلیا کا 1 ٹی ٹوئنٹی میچ ۔۔۔۔پاکستان نے 6 وکٹوں سے میچ جیت لیا ۔۔۔۔

شہزاد کا کٹ شاٹ انہوں نے 73 رنز کی شاندار باری کھیلی

جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان نے کہا ہے کہ میں بھی ڈیم بناؤں گا ۔۔۔۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ان کی جگہ لینے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جہاں دیگر اہم باتوں کی جانب اشارہ کیا وہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ از خود نوٹس کا استعمال صرف اس صورت میں کریں گے جب کوئی صورت نہیں ہوگی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس ثاقب نثار کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد ہوا۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وہ جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ گذشتہ 20 سال اور آٹھ ماہ سے ہیں اور آج وہ دونوں علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تمام اداروں کو ان کےدائرہ اختیار میں رکھنے کے لیے اداروں کے سربراہوں کے مابین ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ صدر پاکستان سے گذارش کریں گے کہ وہ اعلی سطحی اجلاس بلائیں اور خود اس کی سربراہی کریں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کے انداز کو بہتر بتانے کے لیے ایک میثاق حکمرانی سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایں۔

انھوں نے کہا کہ وہ تجویز کرتے ہیں کہ میثاق حکمرانی کے لیے ہونے مذاکرات میں عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ، مسلح افواج اور خفیہ اداروں کی اعلی قیادت کو مدعو کیا جائے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بطور قوم اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ماضی میں ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ازخود نوٹس کا استعمال بہت کم کیا جانا چاہیے اور صرف قومی اہمیت کے حامل معاملات پر لیے جانے چاہیں جہاں کوئی اور مناسب اور موثر حل دستیاب نہ ہو یا دستیاب آئینی اور قانونی حل بے اثر یا بے کار ہوجائیں۔

انھوں نے ہائی کورٹس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عالیہ کو اپنے اختیارات حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے چاہیں۔

: اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی 64 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ سعادت حسن منٹو 11مئی 1912ء کو غلام حسن منٹو امرتسری کے ہاں موضع سمبرالہ ضلع لدھیانہ بھارت میں پیداہوئے۔ انھوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا اور پاکستان بننے کے بعد یہاں منتقلی پر بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ سعادت حسن منٹو نے قیام پاکستان کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور بو سمیت درجنوں شاہکار افسانے تخلیق کیے۔ سعادت حسن منٹو 18جنوری 1955ء کو 43 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے مگر وہ آج بھی اپنی تحریروں سے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

لیگ اسپنر یاسر شاہ نے بھی بنگلا دیش پریمیئر لیگ کے لئے کمر کس لی۔ قومی لیگ اسپنر نے سلہٹ میں اپنی ٹیم کھلنا ٹائٹنز کو جوائن کرنے کے بعد باقاعدہ پریکٹس کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ یاسر شاہ جنوبی افریقہ کے خلاف قومی ایک روزہ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں تاہم اسپنر نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں گرین کیپس کی نمائندگی کی تھی، پاکستان کو ان ٹیسٹوں میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کھلنا ٹائٹنز ٹیم منیجمنٹ کا کہنا ہے کہ یاسر شاہ کی شمولیت سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، یاد رہے کہ اس سے قبل شعیب ملک، محمد حفیظ ،شاہد آفریدی، جنید خان، محمد سمیع ،محمد عرفان، عامر یامین، وہاب ریاض سہیل تنویر بھی لیگ کے دوران مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ملکی ہاکی کیلیے 2018 بھی مایوس کن رہا اس برس بھی قومی کھیل کا حال نہیں بدل پایا۔ 1995 سے قومی کھیل ہاکی کے شروع ہونے والے تنزلی کے سفر میں ایک اورسال کا اضافہ ہوگیا،سال 2018 بھی پاکستان ہاکی کو قدموں پر کھڑا کرنے میں ناکام رہا۔ پاکستان نے 6 ایونٹس میں شرکت کی، ٹیم نے 33 میچز کھیلے، 13 جیتے، 8 برابر رہے اور 12 میں ناکامی ہوئی۔پاکستان نے 101گول کیے،63 خلاف ہوئے۔سال کا آغاز عمان میں تین ملکی سیریز سے ہوا، 5 میچز کھیلے، 2 جیتے ، 2 ڈرا ہوئے اورایک ہارکر دوسری پوزیشن پائی۔اپریل میں آسٹریلیا میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں ٹیم کا نمبرساتواں رہا۔ پاکستان نے 5 میچز کھیلے،ایک ہارا اور 4 برابر رہے۔ ہالینڈ کے شہر بریڈا میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے چھٹی پوزیشن پر اختتام کیا، گرین شرٹس نے وہاں 6 میچز کھیلے، ایک جیتا اور 5 میں ناکامی کا سامنا رہا، جکارتہ ایشین گیمزکے میڈل ٹیبل پر پاکستان کا نمبر چوتھا رہا۔7 میچز میں سے قومی ٹیم نے 5 میں فتح پائی، 2 میچز میں شکست کے بعد چوتھی پوزیشن ملی۔قومی ٹیم مسقط میں کھیلی گئی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے ساتھ مشترکہ طورپر گولڈ میڈل کی حقدار قرار پائی۔ٹیم نے6 میں سے 4 میچ جیتے، ایک ڈرا اور ایک میچ میں ناکامی مقدر رہی، سال کے آخری ایونٹ ورلڈکپ میں پاکستان کی شرمناک پرفارمنس نے رسوائیوں کی داستان کو مزید طویل کردیا۔ ٹیم 4 میچز میں صرف ایک میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی اور16 ٹیموں میں سے پاکستان کا نمبر 12واں رہا۔قومی ٹیم میدان میں دل جیتنے میں ناکام رہی، تو میدان سے باہرکھلاڑی سال بھر مالی مسائل اور ڈیلی الاونسز نہ ملنے کا رونا روتے اور صداے احتجاج بلند کرتے رہے۔ فیڈریشن کے عہدیدارسب اچھا ہونے کے دعوے کرتے رہے،دوسری جانب عہدوں سے فارغ اولمپئنز ہمیشہ کی طرح اپنے مفادات کے لیے تنقید کے تیر چلاکر کھیل اور ملک کو بدنام کرتے دکھائی دیے۔